بیلگاوی، 31؍ مئی (ایس او نیوز) بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی ) میں دل بدلی کر کے آنے والوں سے پارٹی کے بنیادی ورکرس اور قائدین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، جس کی وجہ سے حکومت پھر ایک مرتبہ ڈانواں ڈول نظر آرہی ہے ۔ یہ بات کے پی سی سی کے کارگزار صدر شیش جارکی ہولی نے کہی۔
بیلگاوی میں اخباری نمائندوں سے ساتھ بات چیت کے دوران ستیش نے کہا کہ شمالی کرناٹک کے اراکین اسمبلی علاقائی طور پر پرہلاجوشی کو وزیر اعلیٰ کا عہدہ سونپنے کی بات کررہی ہیں ، دوسری طرف جگدیش شٹر کا نام لیا جارہا ہے ۔ کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہونے والے اراکین جگدیش شٹر کو وزیر اعلیٰ بنانے کی لابی چلارہے ہیں۔ بی جے پی کے سینئر قائد ین امیش کتی کی طرف سے چند مخصوص قائدین کے لیے دعوت کئے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بی جے پی کا اپنا نجی معاملہ ہے، تاہم دل بدلی کر کے آنے والوں سے بی جے پی کے قدیم قائدین کو نظر انداز کیا جارہا ہے ، ان کے ساتھ یہ ایک طرح سے کھلی ناانصافی ہے۔
آبی وسائل کے وزیر رمیش جارکی ہولی کے اس بیان پر کہ مزید 5 اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل ہونے والے ہیں، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الجھنیں پیدا کرنا، مشکلات کھڑی کرنا ہی رمیش جارکی ہولی کا کام ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی سے کوئی بھی بی جے پی میں شامل ہونے والا نہیں ہے۔ ہم انتخابات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین کو راغب کرنے کے لیے دکار للچانے والا بڑا بینک بیلنس ہمارے پاس نہیں ہے ۔
اپوزیشن لیڈر سدارامیا سے امیش کتی کی ملاقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سیاست میں کوئی بھی شخص کسی بھی شخص سے ملاقات کرسکتا ہے، لیکن بغاوت کا انحصار ان کی ہمت اور جرأت پر ہوتاہے۔انہوں نے بی جے پی کی اندرونی خلفشار اور بغاوت کے آثار ایسے ہی جاری رہیں تو یڈی یورپا کی زیر قیادت حکومت کا گرنا طے ہے۔ بغاوت مزید شدت اختیار کر جائے تو کھینچاتانی کی نوبت بھی آسکتی ہے اور قیادت میں تبدیلی کا بھی قوی امکان ہے۔